يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حارث بن شبیل سے، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» ”اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھڑے ہو۔“ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة