بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حیض کے احکام و مسائل باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 310 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: بَلْ أَنْتِ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ، نَعَم، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابی طلحہ نے کہا کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور) اسحاق کی دادی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے پاس موجود تھیں، اے اللہ کے رسول! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے، وہ اپنے آپ سے وہی چیز (نکلتی ہوئی) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (ان کا یہ کہنا کہ تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ ہاں ام سلیم! جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 709]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 709 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: بَلْ أَنْتِ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ، نَعَم، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابی طلحہ نے کہا کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور) اسحاق کی دادی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے پاس موجود تھیں، اے اللہ کے رسول! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے، وہ اپنے آپ سے وہی چیز (نکلتی ہوئی) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (ان کا یہ کہنا کہ تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ ہاں ام سلیم! جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 709]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 311 صحیح مسلم
عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أُمَّ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ: أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنَ الْمَرْأَةِ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ، فَلْتَغْتَسِلْ "، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انہیں) بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں: کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 710]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 710 صحیح مسلم
عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أُمَّ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ: أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنَ الْمَرْأَةِ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ، فَلْتَغْتَسِلْ "، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انہیں) بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں: کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 710]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 312 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنَ الْمَرْأَةِ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ؟ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا: جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 711]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 711 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنَ الْمَرْأَةِ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ؟ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا: جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 711]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 313 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے (اپنی والدہ) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب (منی کا) پانی دیکھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے! (یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 712]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 712 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے (اپنی والدہ) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب (منی کا) پانی دیکھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے! (یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 712]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 313 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ، قَالَتْ: قُلْتُ: " فَضَحْتِ النِّسَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے کہا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں موجود تھیں، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 713]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 713 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ، قَالَتْ: قُلْتُ: " فَضَحْتِ النِّسَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے کہا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں موجود تھیں، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 713]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 314 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: أُفٍّ لَكِ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو ابوطلحہ کے بیٹوں کی ماں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں ... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں (عروہ) نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 714]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 714 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: أُفٍّ لَكِ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو ابوطلحہ کے بیٹوں کی ماں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں ... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں (عروہ) نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 714]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 314 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ سَهْلٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا، أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسافع بن عبداللہ نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو، کیا (بچے کی) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے! جب (نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 715]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 715 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ سَهْلٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا، أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسافع بن عبداللہ نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو، کیا (بچے کی) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے! جب (نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 715]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة