عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: أُفٍّ لَكِ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو ابوطلحہ کے بیٹوں کی ماں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں ... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں (عروہ) نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 714]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة