يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے (اپنی والدہ) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب (منی کا) پانی دیکھے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے!“ (یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 712]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة