إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا، وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، وَغَسَلَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا: انہوں نے تین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی۔ انہوں نے ”ایک ہی چلو سے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور ”دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھے سے (آگے کو) لائے“ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: انہوں نے سر کے اگلے حصے سے (مسح) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے، پھر ان کو واپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 557]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة