عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، بَهْزٌ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِمِثْلِ إِسْنَادِهِمْ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ غَرَفَاتٍ، وَقَالَ أَيْضًا: فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِ، وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، قَالَ بَهْزٌ: أَمْلَى عَلَيَّ وُهَيْبٌ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ وُهَيْبٌ: أَمْلَى عَلَيَّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: اور انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی، تین چلو پانی سے۔ اور یہ بھی کہا: پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے (پیچھے کو) اور پیچھے سے (آگے کو) مسح کیا ایک بار۔ بہز نے کہا: وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اور وہیب نے کہا: عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دو مختلف موقعوں پر املا کرائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 558]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة