بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 403 — باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔ حدیث 403
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، قَالَتْ: " كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ {1} خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ {2} اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ {3} الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ {4} عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ {5} سورة العلق آية 1-5 فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: زَمِّلُونِي، زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ: أَيْ خَدِيجَةُ: مَا لِي، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ "، قَالَ: لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ ابْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ، قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچے خواب آنے سے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر (دوبارہ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے (مقررہ) تعداد میں راتیں تحنث میں مصروف رہتے، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں، (اس کے بعد) آپ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ کر، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد (سامان خور و نوش) لے جاتے، (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق (کا پیغام) آ گیا، اس وقت آپ غار حراء ہی میں تھے، چنانچہ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ نے جواب دیا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: تو اس (فرشتے) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ (اس کا دباؤ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے، (اس وقت) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ انہوں (گھر والوں) نے کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: خدیجہ! یہ مجھے کیا ہوا ہے؟ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں! (بلکہ) آپ کو خوشخبری ہو اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا، اللہ کی قسم! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے لیے پیش آنے والی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ کے پاس پہنچیں، وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد، ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے، عربی خط میں لکھتے تھے، اور جس قدر اللہ کو منظور تھا، انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے، ورقہ بن نوفل نے پوچھا: برادر زادے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا، اس کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا: یہ وہی ناموس (رازوں کا محافظ) ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تھا، کاش! اس وقت میں جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت زندہ (موجود) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا (وہ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (402) باب پر واپس اگلی حدیث (404) →