عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟، قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ، حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے، تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے، یہاں تک کہ آپ اپنی (دائمی منزل کی) راہ پر تشریف لے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2718]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة