أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے ایوب اور ہشام سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی۔ حماد نے کہا: میرا خیال ہے، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے پر روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افطار کرتے (روزے رکھنا ترک کر دیتے) حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل افطار کر رہے ہیں۔ کہا: جب سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2719]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة