يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: " وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے (پورے) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے، جب تک کہ اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2717]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة