أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ "، فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ "، ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا، فَأَكَلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا آپ لوگوں کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ تو ہم نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو تب میں روزے سے ہوں۔“ پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دکھائیے، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2715]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة