أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ ، طَلْحَةُ ، مُجَاهِدًا
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ "، قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: " مَا هُوَ؟ "، قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " هَاتِيهِ "، فَجِئْتُ بِهِ، " فَأَكَلَ "، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا "، قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) مجھے عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ کہا: تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو (پھر) میں روزے سے ہوں۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجا گیا یا ہمارے پاس ملاقاتی (جو ہدیہ لائے) آ گئے۔ کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس مہمان آئے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کچھ محفوظ کر کے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ حیس (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا کھانا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لائیے۔“ تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔“ طلحہ نے کہا: میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انہوں نے کہا: یہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2714]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة