مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ "، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة