بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کی آنکھوں کو بند کرنا اور اس کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کی آنکھوں کو بند کرنا اور اس کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 920 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق فزاری نے خالد حذا سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تو آپ نے انہیں بند کر دیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔ اس پر ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا کر رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے! ہمیں اور اس کو بخش دے، اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لیے اس (قبر) میں روشنی کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2130 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق فزاری نے خالد حذا سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تو آپ نے انہیں بند کر دیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔ اس پر ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا کر رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے! ہمیں اور اس کو بخش دے، اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لیے اس (قبر) میں روشنی کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 920 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ "، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2131 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ "، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة