يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (گھر میں قیام کے دوران میں) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے، لیکن اس ڈر سے کہ لوگ (بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گے اور (ان کی دلچسپی کی بناء پر) وہ کام ان پر فرض کر دیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1662]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة