بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1661 — باب: نماز چاشت کے استحباب کا بیان کم از کم اس کی دورکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں اور درمیانی چار یا چھ ہیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے کی ترغیبیں۔
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: نماز چاشت کے استحباب کا بیان کم از کم اس کی دورکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں اور درمیانی چار یا چھ ہیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے کی ترغیبیں۔ حدیث 1661
حدیث نمبر: 1661 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
کیمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1661]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1660) باب پر واپس اگلی حدیث (1662) →