أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کر دیتے، پھر دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کر کے پڑھتے جب شفق غائب ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1627]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة