بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الرِّقَاقِ
کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: صحت اور فراغت کے بیان میں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّقَاقِ وَأَنْ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ:
6412 – 6414
2
باب: آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے۔
بَابُ مَثَلِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ:
Q6415 – 6415
3
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»:
6416
4
باب: آرزو کی رسی کا دراز ہونا۔
بَابٌ في الأَمَلِ وَطُولِهِ:
Q6417 – 6418
5
باب: جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے عمر کے بارے میں اس کے لیے عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا۔
بَابُ مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ:
Q6419 – 6421
6
باب: ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو۔
بَابُ الْعَمَلِ الَّذِي يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ:
Q6422 – 6424
7
باب: دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا۔
بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا:
6425 – 6432
8
باب: اللہ پاک کا (سورۃ فاطر میں) فرمانا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ میں نہ ڈال دے (کہ آخرت کو بھول جاؤ) اور نہ کوئی دھوکہ دینے والی چیز تمہیں اللہ سے غافل کر دے۔ بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم اسے اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو بلاتا ہے کہ وہ جہنمی ہو جائے۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلاَ يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} :
Q6433 – 6433
9
باب: صالحین کا گزر جانا۔
بَابُ ذَهَابِ الصَّالِحِينَ:
6434
10
باب: مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا۔
بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ:
Q6435 – 6440
11
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہ (دنیا کا) مال سرسبز میٹھا ہے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا الْمَالُ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ»:
Q6441 – 6441
12
باب: آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے۔
بَابُ مَا قَدَّمَ مِنْ مَالِهِ فَهْوَ لَهُ:
6442
13
باب: جو لوگ دنیا میں زیادہ (مالدار) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے۔
بَابُ الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُّونَ:
Q6443 – 6443
14
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا»:
6444 – 6445
15
باب: مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو۔
بَابُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ:
Q6446 – 6446
16
باب: فقر کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْفَقْرِ:
6447 – 6451
17
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان۔
بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا:
6452 – 6460
18
باب: نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا (نہ کمی ہو نہ زیادتی)۔
بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ:
6461 – 6468
19
باب: اللہ کے خوف کے ساتھ امید بھی رکھنا۔
بَابُ الرَّجَاءِ مَعَ الْخَوْفِ:
Q6469 – 6469
20
باب: اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا۔
بَابُ الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ:
Q6470 – 6471
21
باب: جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا۔
بَابُ: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} :
Q6472 – 6472
22
باب: بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے۔
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ:
6473
23
باب: زبان کی (غلط باتوں سے) حفاظت کرنا۔
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ:
Q6474 – 6478
24
باب: اللہ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ:
6479
25
باب: اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ:
6480 – 6481
26
باب: گناہوں سے باز رہنے کا بیان۔
بَابُ الاِنْتِهَاءِ عَنِ الْمَعَاصِي:
6482 – 6484
27
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”اگر تمہیں معلوم ہو جاتا جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»:
6485 – 6486
28
باب: دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے۔
بَابُ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ:
6487
29
باب: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ہے۔
بَابُ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ»:
6488 – 6489
30
باب: اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچا ہے۔
بَابُ لِيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ وَلاَ يَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ:
6490
31
باب: جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے؟
بَابُ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ أَوْ بِسَيِّئَةٍ:
6491
32
باب: چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا۔
بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ:
6492
33
باب: عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا۔
بَابُ الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ وَمَا يُخَافُ مِنْهَا:
6493
34
باب: بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔
بَابُ الْعُزْلَةُ رَاحَةٌ مِنْ خُلاَّطِ السُّوءِ:
6494 – 6495
35
باب: (آخر زمانہ میں) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا۔
بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ:
6496 – 6498
36
باب: ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں۔
بَابُ الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ:
6499
37
باب: جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ:
6500
38
باب: عاجزی کرنے کے بیان میں۔
بَابُ التَّوَاضُعِ:
6501 – 6502
39
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ (کلمہ اور بیچ کی انگلیاں) نزدیک ہیں۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ»:
Q6503 – 6505
40
باب:۔۔۔
بَابٌ:
6506
41
باب: جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے۔
بَابُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ»:
6507 – 6509
42
باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ:
6510 – 6516
43
باب: صور پھونکنے کا بیان۔
بَابُ نَفْخِ الصُّورِ:
Q6517 – 6518
44
باب: اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا۔
بَابُ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ:
Q6519 – 6521
45
باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ:
6522 – 6529
46
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد قیامت کی ہلچل ایک بڑی مصیبت ہو گی۔
بَابُ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} :
Q6530 – 6530
47
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”کیا یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ لوگ پھر ایک عظیم دن کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ اس دن جب تمام لوگ رب العالمین کے حضور میں کھڑے ہوں گے“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَلاَ يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} :
Q6531 – 6532
48
باب: قیامت کے دن بدلہ لیا جانا۔
بَابُ الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
Q6533 – 6535
49
باب: جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا۔
بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ:
6536 – 6540
50
باب: جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے۔
بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ:
6541 – 6545
51
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
Q6546 – 6572
52
باب: صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایا گیا ہے۔
بَابُ الصِّرَاطُ جَسْرُ جَهَنَّمَ:
6573 – 6574
53
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
بَابٌ في الْحَوْضِ:
Q6575 – 6593