بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہ (دنیا کا) مال سرسبز میٹھا ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہ (دنیا کا) مال سرسبز میٹھا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6441 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا}. قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ إِلاَّ أَنْ نَفْرَحَ بِمَا زَيَّنْتَهُ لَنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ أُنْفِقَهُ فِي حَقِّهِ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ آل عمران میں) فرمایا «زين للناس حب الشهوات من النساء والبنين والقناطير المقنطرة من الذهب والفضة والخيل المسومة والأنعام والحرث ذلك متاع الحياة الدنيا‏» انسانوں کو خواہشات کی تڑپ، عورتوں، بال، بچوں ڈھیروں سونے چاندی، نشان لگے ہوئے گھوڑوں اور چوپایوں کھیتوں میں محبوب بنا دی گئی ہے، یہ چند روزہ زندگانی کا سرمایہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ! ہم تو سوا اس کے کچھ طاقت ہی نہیں رکھتے کہ جس چیز سے تو نے ہمیں زینت بخشی ہے اس پر ہم طبعی طور پر خوش ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ اس مال کو تو حق جگہ پر خرچ کروانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: Q6441]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 6441 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةُ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: هَذَا الْمَالُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لِي:" يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھے عروہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی، انہیں حکیم بن حزام نے، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ پھر فرمایا کہ یہ مال۔ اور بعض اوقات سفیان نے یوں بیان کیا کہ (حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) اے حکیم! یہ مال سرسبز اور خوشگوار نظر آتا ہے پس جو شخص اسے نیک نیتی سے لے اس میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس شخص جیسا ہو جاتا ہے جو کھاتا جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6441]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة