بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 6494 صحیح بخاری
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبَا سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، الزُّبَيْدِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَالنُّعْمَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ ، يُونُسُ ، وَابْنُ مُسَافِرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءٍ ، بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" رَجُلٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ، وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ"، تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَالنُّعْمَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ يُونُسُ، وَابْنُ مُسَافِرٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے اچھا ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت زبیدی، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور یونس و ابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب (زہری) سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6495 صحیح بخاری
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْمَاجِشُونُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الْغَنَمُ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے بہتر مال بھیڑیں ہوں گی وہ انہیں لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے گا، اس دن وہ اپنے دین کو لے کر فسادوں سے ڈر کر وہاں سے بھاگ جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6495]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة