بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عزل کا حکم کیا ہے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان باب: عزل کا حکم کیا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 5207 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ہم عزل کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5207]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5208 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، عَطَاءٌ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہیں عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا ہم عزل کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5208]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5209 صحیح بخاری
وعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
اور عمرو بن دینار نے بیان کیا عطاء سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ قرآن نازل ہو رہا تھا اور ہم عزل کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5209]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5210 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، جُوَيْرِيَةُ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" أَصَبْنَا سَبْيًا فَكُنَّا نَعْزِلُ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، قَالَهَا ثَلَاثًا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے زہری نے، ان سے ابن محیریز نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک غزوہ میں) ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم نے ان سے عزل کیا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو؟ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا (پھر فرمایا) قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے وہ (اپنے وقت پر) پیدا ہو کر رہے گی۔ پس تمہارا عزل کرنا عبث حرکت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5210]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة