الْحُمَيْدِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ , فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے کہا کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف تو کرتا ہے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ (صرف بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے ہمبستر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مکہ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم علیہ السلام کے قریب دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة