بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الْعُمْرَةِ
کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: عمرہ کا وجوب اور اس کی فضیلت۔
بَابُ وُجُوبِ الْعُمْرَةِ وَفَضْلِهَا:
Q1773 – 1773
2
باب: اس شخص کا بیان جس نے حج سے پہلے عمرہ کیا۔
بَابُ مَنِ اعْتَمَرَ قَبْلَ الْحَجِّ:
1774
3
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟
بَابُ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
1775 – 1781
4
باب: رمضان میں عمرہ کرنے کا بیان۔
بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ:
1782
5
باب: محصب کی رات عمرہ کرنا یا اس کے علاوہ کسی دن بھی عمرہ کرنے کا بیان۔
بَابُ الْعُمْرَةِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ وَغَيْرِهَا:
1783
6
باب: تنعیم سے عمرہ کرنا۔
بَابُ عُمْرَةِ التَّنْعِيمِ:
1784 – 1785
7
باب: حج کے بعد عمرہ کرنا اور قربانی نہ دینا۔
بَابُ الاِعْتِمَارِ بَعْدَ الْحَجِّ بِغَيْرِ هَدْيٍ:
1786
8
باب: عمرہ میں جتنی تکلیف ہو اتنا ہی ثواب ہے۔
بَابُ أَجْرِ الْعُمْرَةِ عَلَى قَدْرِ النَّصَبِ:
1787
9
باب: (حج کے بعد) عمرہ کرنے والا عمرہ کا طواف کر کے مکہ سے چل دے تو طواف وداع کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔
بَابُ الْمُعْتَمِرِ إِذَا طَافَ طَوَافَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ خَرَجَ، هَلْ يُجْزِئُهُ مِنْ طَوَافِ الْوَدَاعِ:
1788
10
باب: عمرہ میں ان ہی کاموں کا پرہیز ہے جن سے حج میں پرہیز ہے۔
بَابُ يَفْعَلُ فِي الْعُمْرَةِ مَا يَفْعَلُ فِي الْحَجِّ:
1789 – 1790
11
باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
بَابُ مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ:
Q1791 – 1796
12
باب: حج، عمرہ یا جہاد سے واپسی پر کیا دعا پڑھی جائے؟
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَوِ الْغَزْوِ:
1797
13
باب: مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْحَاجِّ الْقَادِمِينَ وَالثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ:
1798
14
باب: (مسافر کا اپنے) گھر میں صبح کے وقت آنا۔
بَابُ الْقُدُومِ بِالْغَدَاةِ:
1799
15
باب: شام میں گھر کو آنا۔
بَابُ الدُّخُولِ بِالْعَشِيِّ:
1800
16
باب: آدمی جب اپنے شہر میں پہنچے تو گھر میں رات کو نہ جائے۔
بَابُ لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ:
1801
17
باب: جس نے مدینہ طیبہ کے قریب پہنچ کر اپنی سواری تیز کر دی (تاکہ جلد سے جلد اس پاک شہر میں داخلہ نصیب ہو)۔
بَابُ مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ:
1802
18
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا} :
1803
19
باب: سفر بھی گویا عذاب کا ایک حصہ ہے۔
بَابُ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ:
1804
20
باب: مسافر جب جلد چلنے کی کوشش کر رہا ہو اور اپنے اہل میں جلد پہنچنا چاہئے۔
بَابُ الْمُسَافِرِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ يُعَجِّلُ إِلَى أَهْلِه
1805