بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1792 — باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
کتب صحیح بخاری کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟ حدیث 1792

Q1791 حوالہ جات (References)

وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا.
‏‏‏‏ اور عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دیں اور طواف (بیت اللہ اور صفا و مروہ) کریں پھر بال ترشوا کر احرام سے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: Q1791]
حدیث نمبر: 1792 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ: فَحَدِّثْنَا مَا قَالَ لِخَدِيجَةَ، قَالَ: بَشِّرُوا، خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
کہا انہوں نے پھر پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا کچھ فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا تھا خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک موتی کے گھر کی بشارت ہو، جس میں نہ کسی قسم کا شور و غل ہو گا نہ کوئی تکلیف ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعُمْرَةِ/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1791) باب پر واپس اگلی حدیث (1793) →