بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو بیع کھجوروں کی مکر وہ ہے اس کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں جو بیع کھجوروں کی مکر وہ ہے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1323 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ". فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَامِلَكَ عَلَى خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوهُ لِي". فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو۔ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کا عامل خیبر پر ایک صاع کھجور لے کر دو صاع دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاؤ اس کو۔ وہ بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تو دو صاع کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے؟ وہ بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کر لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3369، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 498/4، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 20»
حدیث نمبر: 1324 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ الْحَميدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الْحَميدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا خیبر پر، وہ عمدہ کھجور لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: سب کھجوریں خبیر کی ایسی ہی ہوتی ہیں؟ وہ بولا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم اس کھجور میں سے ایک صاع دو صاع کے بدلے میں یا دو صاع تین صاع کے بدلے میں خرید کیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کر، پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور روپے دے کر خرید لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1593، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5020، 5021، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4557، 4558، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6100، 6101، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2619، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10629، 10654، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2849، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11423، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 21»
حدیث نمبر: 1325 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ، سَعْدٌ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ:" أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ؟" قَالَ: الْبَيْضَاءُ. فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ سَعْدٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ. فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن ابوعیاش سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہ جَو کو سلت (ایک غلہ کا نام ہے درمیان میں گیہوں اور جَو کے، غور اور حجاز میں پیدا ہوتا ہے) کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: دونوں میں کونسا اچھا ہے؟ بولے: جَو۔ تو منع کیا اس سے، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے پوچھا کہ خشک کھجور کو رطب (تر کھجور کے) بدلے میں بیچنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رطب جب سوکھ جاتا ہے تو وزن اس کا کم ہو جاتا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3359، 3360، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4997، 5003، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2277، 2278، 2279، 2280، 2296، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4549، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5991، 6091، 6092، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1225، 1225، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2264، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10599، وأحمد فى «مسنده» برقم: 515، والحميدي فى «مسنده» برقم: 75، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2994، 2995، 2996، 2997، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 22»