زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ". فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَامِلَكَ عَلَى خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوهُ لِي". فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کا عامل خیبر پر ایک صاع کھجور لے کر دو صاع دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بلاؤ اس کو۔“ وہ بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تو دو صاع کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے؟ وہ بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کر لے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3369، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 498/4، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 20»