بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: نکاح کے بیان میں مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1118 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ نِسَاءً كُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ، وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ، مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ، وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ، نَادَاهُ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَاءَنِي بِرِدَائِكَ، وَزَعَمَ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي إِلَى الْقُدُومِ عَلَيْكَ، فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ، وَإِلَّا سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ"، فَقَالَ: لَا، وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ حَتَّى تُبَيِّنَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ لَكَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ"، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ هَوَازِنَ، بِحُنَيْنٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلَاحًا عِنْدَهُ، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَطَوْعًا أَمْ كَرْهًا؟ فَقَالَ: بَلْ طَوْعًا، فَأَعَارَهُ الْأَدَاةَ وَالسِّلَاحَ الَّذِي عِنْدَهُ، ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَافِرٌ، فَشَهِدَ حُنَيْنًا، وَالطَّائِفَ، وَهُوَ كَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ، وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ، وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو جاتی تھیں اپنے ملک میں، ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے، انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھیں جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں، وہ فتح مکّہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کر صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا، اور یہ کہلا بھیجا کہ میرے پاس آؤ اگر تمہای خوشی ہو تو، مسلمان ہونا نہیں تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی۔ جب صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر لے کر آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے: اے محمد! وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے، اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہو جاؤں، نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اُترو اے ابو وہب! صفوان نے کہا: قسم خدا کی! میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریت مانگا۔ صفوان نے کہا: آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خوشی سے۔ صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہے جنگِ حنین میں، اور طائف میں، اور عورت ان کی مسلمان رہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14105، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4198، 4199، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12646، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 44»
حدیث نمبر: 1119 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ إِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: " وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ، إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا، إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں، اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالاسلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی، اور عدت کر کے دوسرا نکاح کر لے گی مگر جس صورت میں خاوند اس کا عدت کے اندر مسلمان ہو کر چلا آئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم:، 14106، 14107، 14108، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:4199، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10195، 12646، 19410، 19852، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18627، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 45»
حدیث نمبر: 1120 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ، فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ،" فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا، وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، حَتَّى بَايَعَهُ، فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ذَلِكَ" . قَالَ مَالِكٌ: وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ، وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ فَلَمْ تُسْلِمْ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ اُم حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے، اُم حکیم بھی وہاں چلی گئی اور ان کو دینِ اسلام کی طرف بلایا، تو وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم شریف پر چادر نہ تھی۔ پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہو جائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہو جائے گا، کیونکہ اللہ جل جلالہُ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: « ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [الممتحنة: 10] » یعنی مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14064، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 46»