بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 484 — سجدۂ تلاوت کے بیان میں (سجدۂ تلاوت سنت ہے یا مستحب ہے)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: قرآن کے بیان میں سجدۂ تلاوت کے بیان میں (سجدۂ تلاوت سنت ہے یا مستحب ہے) حدیث 484
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ سَجْدَةً وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ عَلَى:" رِسْلِكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ" فَلَمْ يَسْجُدْ وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آیت سجدہ کی منبر پر پڑھی جمعہ کے روز، اور منبر پر سے اتر کو سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، پھر دوسرے جمعہ میں اس کو پڑھا اور لوگ مستعد ہوئے سجدہ کو، تب کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: اپنے حال پر رہو، اللہ جل جلالہُ نے سجدۂ تلاوت کو ہمارے اوپر فرض نہیں کیا ہے، مگر جب ہم چاہیں تو سجدہ کریں، پس سجدہ نہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور منع کیا ان کو سجدہ کرنے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقُرْآنِ/حدیث: 484]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1077، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3824، 5877، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5912، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 4392، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2083، شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
← پچھلی حدیث (483) باب پر واپس اگلی حدیث (485) →