بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1723 — بیمار پرسی اور فال بد کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں بیمار پرسی اور فال بد کا بیان حدیث 1723
حدیث نمبر: 1723 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، ابْنِ عَطِيَّةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ، وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ، وَلْيَحْلُلِ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ أَذًى"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن عطیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے عدویٰ (یعنی چھوت، ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا)، اور نہ ہام (اُلّو جس کو لوگ منحوس سمجھتے ہیں، یا مردے کی روح جانور کی شکل)، اور نہ صفر کا مہینہ (جس کو لوگ منحوس جانتے ہیں، تیرہ تیزی میں کوئی کام کرنا بہتر نہیں جانتے)، لیکن بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے، البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مرض سے نفرت ہوتی ہے، یا تکلیف ہوتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5707، 5717، 5757، 5770، 5771، 5773، 5775، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2220، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3911، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7609، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 18»
← پچھلی حدیث (1722) باب پر واپس اگلی حدیث (1724) →