بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور افطار کرنا چاہیے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) روزوں کے مسائل چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور افطار کرنا چاہیے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 242 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
208- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ذكر رمضان، فقال: ”لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: جب تک تم (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک تم (عید کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ افطار (یعنی عید) نہ کرو اور اگر موسم ابر آلود ہو تو (تیس کی) گنتی پوری کرو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 242]
تخریج الحدیث
«208- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 286/1 ح 639، ك 18 ب 1 ح 1) التمهيد 337/1، الاستذكار:589، و أخرجه البخاري (1906) ومسلم (1080) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 243 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
282- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس (29) دنوں کا ہوتا ہے لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار (عید) نہ کرو۔ پھر اگر تم پر موسم ابر آلود ہو تو (تیس دن) پورے کر لو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 243]
تخریج الحدیث
«282- الموطأ (رواية يحيٰي بن يحيٰي 286/1 ح 640، ك 18 ب 1 ح 2) التمهيد 79/17، الاستذكار: 590 و أخرجه البخاري (1907) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح