بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شیر خوار بچے کا پیشاب
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) طہارت کے مسائل شیر خوار بچے کا پیشاب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 36 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
56- وبه: عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أم قيس ابنة محصن: أنها أتت بابن لها صغير لم يأكل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فأجلسه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى حجره فبال على ثوبه، فدعا بماء فنضحه ولم يغسله.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ اپنے چھوٹے بچے کو جس نے ابھی کھانا شروع نہیں کیا تھا، لے کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھا لیا، پھر اس بچے نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا، پھر آپ نے کپڑے پر پانی چھڑکا اور اسے نہ دھویا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 36]
تخریج الحدیث
«56- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 64/1 ح 137، ك 2 ب 30 ح 109) التمهيد 108/9، الاستذكار: 116 و أخرجه البخاري (223) من حديث مالك به ورواه مسلم (287) من ابن شهاب الزهري به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 37 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
461- وبه: أنها قالت: أتي رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بصبي فبال على ثوبه، فدعا بماء فأتبعه إياه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس (کپڑے) پر پانی ڈال دیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 37]
تخریج الحدیث
«461- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 64/1 ح 137، ك 2 ب 30 ح 109) التمهيد 108/9، الاستذكار: 116 و أخرجه البخاري (222) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح