302- مالك عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الأنصاري عن أبى يونس مولى عائشة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم أن رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وهو واقف على الباب: يا رسول الله، إني أصبح جنبا وأنا أريد الصيام، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”وأنا أصبح جنبا وأنا أريد الصيام فأغتسل وأصوم“ فقال الرجل: يا رسول الله، إنك لست مثلنا، قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، فغضب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: ”والله إني لأرجو أن أكون أخشاكم لله وأعلمكم بحدوده.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دروازے کے پاس کھڑے تھے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میں رات کو جنبی ہو جاتا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی رات کو جنبی ہوتا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا ہے تو میں نہاتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔“ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے جیسے نہیں ہیں، اللہ نے گناہوں کے اور آپ کے درمیان (نبوت سے) پہلے (بھی) اور بعد میں پردہ ڈالا ہوا ہے یعنی آپ تو گناہوں سے بالکل معصوم ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں امید کرتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 253]
تخریج الحدیث
«302- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 289/1 ح 648، ك 18 ب 4 ح 9) التمهيد 418/17، الاستذكار: 596، و أخرجه أبوداود (2389) من حديث مالك به , ومسلم (1110/79) من حديث عبدالله بن عبدالرحمٰن الانصاري به۔، سقط من الأصل واستدركته من رواية يحيي بن يحيي.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح