بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنبی آدمی غسل سے پہلے سحری کھا سکتا ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) روزوں کے مسائل جنبی آدمی غسل سے پہلے سحری کھا سکتا ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 253 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
302- مالك عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الأنصاري عن أبى يونس مولى عائشة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم أن رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وهو واقف على الباب: يا رسول الله، إني أصبح جنبا وأنا أريد الصيام، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”وأنا أصبح جنبا وأنا أريد الصيام فأغتسل وأصوم“ فقال الرجل: يا رسول الله، إنك لست مثلنا، قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، فغضب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: ”والله إني لأرجو أن أكون أخشاكم لله وأعلمكم بحدوده.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دروازے کے پاس کھڑے تھے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میں رات کو جنبی ہو جاتا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی رات کو جنبی ہوتا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا ہے تو میں نہاتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے جیسے نہیں ہیں، اللہ نے گناہوں کے اور آپ کے درمیان (نبوت سے) پہلے (بھی) اور بعد میں پردہ ڈالا ہوا ہے یعنی آپ تو گناہوں سے بالکل معصوم ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں امید کرتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 253]
تخریج الحدیث
«302- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 289/1 ح 648، ك 18 ب 4 ح 9) التمهيد 418/17، الاستذكار: 596، و أخرجه أبوداود (2389) من حديث مالك به , ومسلم (1110/79) من حديث عبدالله بن عبدالرحمٰن الانصاري به۔، سقط من الأصل واستدركته من رواية يحيي بن يحيي.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 254 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
395- مالك عن عبد ربه بن سعيد الأنصاري عن أبى بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن عائشة وأم سلمة زوجي النبى صلى الله عليه و آله وسلم أنهما قالتا: كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصبح جنبا من جماع غير احتلام فى رمضان، ثم يصوم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو بیویوں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان میں احتلام کے بغیر، جماع سے حالت جنابت میں صبح کرتے پھر روزہ رکھتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 254]
تخریج الحدیث
«395- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 289/1، 290 ح 648، ك 18 ب 4 ح 10) التمهيد 31/20، الاستذكار: 598، و أخرجه مسلم (1109/78) و أبوداود (2388) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 255 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
436- وعن سمي مولى أبى بكر بن عبد الرحمن عن أبى بكر بن عبد الرحمن عن عائشة وأم سلمة زوجي النبى صلى الله عليه و آله وسلم أنهما قالتا: إن كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ليصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو بیویوں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احتلام کے بغیر جماع سے جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 255]
تخریج الحدیث
«436- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 291/1 ح 650، ك 18 ب 4 ح 12) التمهيد 46/22، الاستذكار: 600، و أخرجه البخاري (1925، 1926) ومسلم (1931، 1932) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 256 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
437- وعنه أنه سمع أبا بكر بن عبد الرحمن يقول: كنت أنا وأبي عند مروان ابن الحكم وهو أمير المدينة، فذكر له أن أبا هريرة يقول: من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم، فقال مروان: أقسمت عليك يا أبا عبد الرحمن، لتذهبن إلى أمي المؤمنين عائشة وأم سلمة فلتسألنهما عن ذلك، قال: فذهب عبد الرحمن وذهبت معه حتى دخلنا على عائشة، فسلم عليها عبد الرحمن ثم قال: يا أم المؤمنين، إنا كنا عند مروان بن الحكم، فذكر له أن أبا هريرة يقول، من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم، فقالت عائشة: ليس كما قال أبو هريرة يا عبد الرحمن، أترغب عما كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصنع؟، فقال عبد الرحمن: لا والله، فقالت: فاشهد على رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أن كان ليصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم ذلك اليوم؛ قال: ثم خرجنا حتى دخلنا على أم سلمة فسألها، فقالت كما قالت عائشة: قال: فخرجنا حتى جئنا مروان بن الحكم فذكر له عبد الرحمن ما قالتا، فقال له مروان: أقسمت عليك يا أبا محمد، لتركبن دابتي فإنها بالباب، فلتذهبن إلى أبى هريرة فإنه بأرضه بالعقيق فلتخبرنه ذلك، قال: فركب، عبد الرحمن وركبت معه حتى أتينا أبا هريرة، فتحدث معه عبد الرحمن ساعة ثم ذكر ذلك له، فقال أبو هريرة: لا علم لي بذلك، إنما أخبرنيه مخبر.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد دونوں مروان بن حکم کے پاس، جن دنوں وہ مدینے کے امیر تھے (بیٹھے ہوئے) تھے۔ مروان کو بتایا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص حالت جنابت میں صبح کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے پاس جا کر ان سے مسئلہ پوچھیں۔ پھر (میرے والد) عبدالرحمٰن اور میں دونوں گئے حتیٰ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو عبدالرحمٰن نے انہیں سلام کیا پھر کہا: اے ام المؤمنین! ہم مروان بن حکم کے پاس تھے کہ اسے بتایا گیا کہ ابوہریرہ فرماتے ہیں: جو شخص حالت جنابت میں صبح کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن! ایسی بات نہیں ہے جیسی کہ ابوہریرہ نے کہی ہے۔ کیا تم اس عمل سے منہ پھیرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے تھے؟ عبدالرحمٰن نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر گواہی دیتی ہوں کہ آپ احتلام کے بغیر حالت جنابت میں صبح کرتے تھے پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر ہم وہاں سے نکل کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا: تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا۔ پھر ہم وہاں سے نکل کر مروان بن حکم کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن نے انہیں بتایا کہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن نے یہ فرمایا ہے۔ مروان نے کہا: اے ابومحمد! تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میرے اس جانور پر سوار ہو جاؤ جو دروازے کے باہر (کھڑا) ہے۔ پھر تم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتاؤ، وہ عقیق کے مقام پر اپنی زمین میں (مصروف) ہیں۔ پھر (میرے والد) عبدالرحمٰن اور میں سوار ہو کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کچھ دیر عبدالرحمٰن ان کے ساتھ باتیں کرتے رہے پھر انہیں یہ بات بتائی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے (بذات خود) اس کا کوئی علم نہیں ہے، مجھے تو یہ بات ایک بتانے والے (یعنی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ) نے بتائی تھی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 256]
تخریج الحدیث
«437- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 290/1، 291 ح 649، ك 18 ب 4 ح 11) التمهيد 39/22، 40 الاستذكار: 599، و أخرجه البخاري (1925، 1926) من حديث مالك به ورواه مسلم (1109/75) من حديث ابي بكر بن عبدالرحمٰن به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح