269- وعن نعيم بن عبد الله المجمر عن على بن يحيى الزرقي عن أبيه عن رفاعة ابن رافع الزرقي أنه قال: كنا يوما نصلي وراء رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فلما رفع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم رأسه من الركعة وقال: ”سمع الله لمن حمده“، قال رجل وراءه: ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”من المتكلم آنفا؟“، فقال الرجل: أنا يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”لقد رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أولا.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور فرمایا: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”جس نے اللہ کی حمد کی اسے اللہ نے سنا“، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھنے والے) ایک آدمی نے کہا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے حمد وثنا ہے، بہت زیادہ، پاک اور مبارک“، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”ابھی کس نے (نماز میں) کلام کیا تھا؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے یا رسول اللہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیس (۳۰) سے زیادہ فرشتے دیکھے کہ اسے پہلے لکھنے میں ایک دوسرے سے جلدی کر رہے تھے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 122]
تخریج الحدیث
«269- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 211/1، 212 ح 494، ك 15 ب 7 ح 25) التمهيد 197/16، الاستذكار: 463، و أخرجه البخاري (799) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح