بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی طَلحَةَ زَیدِ بنِ سَهل الاَنصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 25
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 16345 مسند احمد
الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ"، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ: لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا وَيَذْكُرْ الصُّوَرَ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ: قَالَ: إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ؟ قَالَ هَاشِمٌ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ: إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ؟ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ جنا رب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں تصوریں ہوں راوی حدیث بسر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ بیمار ہوئے ہم ان کی عیادت کے لئے گئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا کہ کیا سیدنا ابوطلحہ ہی نے پہلے ایک موقع پر ہمارے سامنے تصویروں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے متعلق حدیث سنائی تھی تو عبیداللہ نے جواب دیا کہ آپ نے انہیں کپڑے میں بنے ہوئے نقش ونگار کو مستثنی کرتے ہوئے نہیں سنا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5958، م: 2106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5958، م: 2106
حدیث نمبر: 16346 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَجَّاجٌ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو طَلْحَةَ ، أبو طلحة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ . وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، قال يحيى في حديثه، أنبأني أبو طلحة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع فرمایا: تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16346]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 16347 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: لَمَّا صَبَّحَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ، وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ وَأَرْضِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْجَيْشُ، رَكَضُوا مُدْبِرِينَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مقام خیبر میں صبح کی اس وقت تک اہل خبیر اپنے کام کاج کے لئے اپنے کھیتوں اور زمینوں میں جاچکے تھے جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اور ان کے ساتھ ایک لشکر کو دیکھا تو وہ پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16348 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، لِمَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، أَنَسٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: قِيلَ لِمَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَأَنَا عِنْدَهُ: عَمَّنْ كَانَ يَأْخُذُ الْحَسَنُ" أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ؟"، قَالَ:" أَخَذَهُ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَخَذَهُ أَنَسٌ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَخَذَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ کسی نے مطروراق سے میری موجودگی میں پوچھا کہ حسن بصری آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم کہاں سے لیتے ہیں انہوں نے کہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے وہ سیدنا ابوطلحہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16348]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مطر الوراق مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، وقد انفرد به، وهو ممن لا يحتمل تفرده
الحكم: إسناده ضعيف، مطر الوراق مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، وقد انفرد به، وهو ممن لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 16349 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، الْأَغَرِّ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ رَجُلٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ" قال: وقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، فَقَالَ: وحدَثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وله ثلاثة أسانيد، وهذا حديث منسوخ
الحكم: حديث صحيح، وله ثلاثة أسانيد، وهذا حديث منسوخ
حدیث نمبر: 16350 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: صَبَّحَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ، وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا مُدْبِرِينَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مقام خیبر میں صبح کی اس وقت تک اہل خبیر اپنے کام کاج کے لئے اپنے کھیتوں اور زمینوں میں جاچکے تھے جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اور ان کے ساتھ ایک لشکر کو دیکھا تو وہ پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16351 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ. قَالَ: حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: صَبَّحَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ. فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حدیث نمبر: 16352 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا طَيِّبَ النَّفْسِ، يُرَى فِي وَجْهِهِ الْبِشْرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصْبَحْتَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ، يُرَى فِي وَجْهِكَ الْبِشْرُ، قَالَ:" أَجَلْ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَاةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کا موڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آرہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ اس کے لئے دس نیکیاں لکھے گا دس گناہ معاف کر ے گا دس درجات بلند فرمائے گا اور اس پر بھی اسی طرح رحمت نازل فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16352]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبومعشر ضعيف، ولم يدرك إسحاق بن كعب
الحكم: إسناده ضعيف، أبومعشر ضعيف، ولم يدرك إسحاق بن كعب
حدیث نمبر: 16353 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3322، م: 2106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3322، م: 2106
حدیث نمبر: 16354 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَجَّاجٌ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع فرمایا: تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16354]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 16355 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن ٹھہرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16355]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، معاذ بن جبل سمع ابن أبى عروبة بعدالاختلاط، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، معاذ بن جبل سمع ابن أبى عروبة بعدالاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16356 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَاتَلَ قَوْمًا فَهَزَمَهُمْ، أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا، وَإِنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَمَرَ بِصَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُنْتِنٍ قَالَ: ثُمَّ رَاحَ إِلَيْهِمْ، وَرُحْنَا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا وَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟، قَالَ:" وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ". قَالَ قَتَادَةُ: بَعَثَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ تَوْبِيخًا وَصَغَارًا وَتَقْمِئَةً. قَالَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن ٹھہرنے کو پسند فرماتے اور غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو سردارن قریش کو بدر کے ایک گندے اور بدبودار کنویں میں پھینک دیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلے ہم بھی ساتھ تھے اور وہاں پہنچ کر آوازیں دی اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ اے شیبہ بن ربیعہ اور اے ولید بن عتبہ کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچاپایا ہے سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہو جن میں روح سرے سے نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو میں ان سے کہہ رہا ہوں وہ تم سے زیادہ انہیں سن رہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2875
الحكم: إسناده صحيح، م: 2875
حدیث نمبر: 16357 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قتادة ، وَحُسَيْنٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَبَا طَلْحَةَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عن قتادة ، وَحُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ:" غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ". قَالَ أَبُو طَلْحَةَ:" وَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن جب ہم لوگ صفوں میں کھڑے ہوئے تو ہم پر اونگھ طاری ہو نے لگی ان لوگوں میں میں بھی شامل تھا اور اسی بناء پر میرے ہاتھ سے بار بار تلوار گرتی تھی اور میں اسے اٹھا لیتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4562
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4562
حدیث نمبر: 16358 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: لَمَّا صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ، وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ وَأَرْضِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا مُدْبِرِينَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مقام خیبر میں صبح کی اس وقت تک اہل خبیر اپنے کام کاج کے لئے اپنے کھیتوں اور زمینوں میں جاچکے تھے جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اور ان کے ساتھ ایک لشکر کو دیکھا تو وہ پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16359 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ، فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: مَا نُرَاهُ إِلَّا يَنْطَلِقُ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ:" يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا" فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ"، قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمْ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا، وَتَصْغِيرًا، وَتَقْمِئَةً، وَحَسْرَةً، وَنَدَامَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ تو چوبیس سردران قریش کو بدر کے ایک گندے اور بدبودار کنویں میں پھینک دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ عادت مبارک تھی جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن ٹھہرنے کو پسند فرماتے چنانچہ غزوہ بدر کے تیسرے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلے اور ہم بھی ساتھ چلے ہمارا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جا رہے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنویں کی منڈیر پر جا کر کھڑے ہوئے اور ان کے نام لے کر انہیں آوازیں دینے لگے کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہو جن میں روح سرے سے نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو میں ان سے کہہ رہا ہوں وہ تم اسے زیادہ انہیں سن رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16360 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ
وحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ شَيْبَانَ وَلَمْ يُسْنِدْهُ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَتَقْمِئَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16360]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، شيبان عن أبى طلحة منقطع
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، شيبان عن أبى طلحة منقطع
حدیث نمبر: 16361 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، سُلَيْمَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلًى لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَى الْبِشْرَ فِي وَجْهِكَ؟، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ: أَمَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کاموڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آرہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کر وں گا اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16361]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
حدیث نمبر: 16362 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ ذَكَرَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتْ النَّارُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهذا الحديث منسوخ
الحكم: إسناده صحيح، وهذا الحديث منسوخ
حدیث نمبر: 16363 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ، أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟"، قَالَ:" بَلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کاموڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کر وں گا اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام پڑھے گا میں اس پردس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16363]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
حدیث نمبر: 16364 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، سُلَيْمَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16364]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول