بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی طَلحَةَ زَیدِ بنِ سَهل الاَنصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 25
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 16365 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا، ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟، فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا:" أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟! لَمْ يَتَوَضَّأْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابوطلحہ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے روٹی اور گوشت کھالیا پھر میں نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو وہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ وضو کیوں کر رہے ہو میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ابھی ہم نے کھایا ہے وہ کہنے لگے کہ کیا تم حلال چیزوں سے وضو کر و گے اس ذات نے اس سے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16365]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16366 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ ، كَانَ يَسْكُنُ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ، فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" قَدْ أَحْسَنْتَ"، قَالَ: فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا"، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ مَرَّةً أُخْرَى: أَبُو ثَابِتٍ مِنْ كِتَابِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص سیدنا عمر کے سامنے قرآن کر یم کی تلاوت کر رہا تھا اس دوران سیدنا عمر نے اسے لقمہ دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرآن کر یم پڑھ کر سنایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی سیدنا عمر نے غالباً اس بات کو محسوس کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمر سارا قرآن درست ہے جب تک انسان مغفرت کو عذاب یا عذاب کو مغفرت میں تبدیل نہ کر دے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16366]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16367 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي ، أَبُو طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا جُلُوسًا بِالْأَفْنِيَةِ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا جَلَسْنَا لِغَيْرِ مَا بَأْسٍ، نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ، قَالَ:" فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا"، قُلْنَا: وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ:" غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَحُسْنُ الْكَلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھروں کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ان بلندیوں پر کیوں بیٹھے ہو یہاں بیٹھنے سے اجتناب کیا کر و ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہاں کسی گناہ کے کام کے لئے نہیں بیٹھتے بلک صرف مذآ کر ہ اور باہم گفت و شنید کے لئے جمع ہوئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجلسوں کو ان کا حق دیا کر و ہم نے پوچھا کہ وہ حق کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نگاہیں جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2161
الحكم: إسناده صحيح، م: 2161
حدیث نمبر: 16368 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ حَجَّاجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمِ بْنِ زَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنَ بَشِيرٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَجَّاجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا. قَالَ: وَحَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيلَ بْنَ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا عِنْدَ مَوْطِنٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ، وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ، وَمَا مِنَ امْرِئٍ يَنْصُرُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ، إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو کسی ایسی جگہ تنہاچھوڑ دیتا ہے جہاں اس کی بےعزتی کی جا رہی ہواور اس کی عزت پر حملہ کر کے اسے کم کیا جارہا ہو تو اللہ اسے اس مقام پر تنہاچھوڑ دے گا جہاں وہ اللہ کی مدد چاہتا ہو گا اور جو شخص کسی ایسی جگہ پر کس مسلمان کی مدد کرتا ہے جہاں اس کی عزت کم کی جارہی ہواور اس کی بےعزتی کی جا رہی ہو تو اللہ اس مقام پر اس کی مدد کر ے گا جہاں وہ اللہ کی مدد چاہتا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16368]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة يحيى بن سليم بن زيد، وإسماعيل بن بشير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة يحيى بن سليم بن زيد، وإسماعيل بن بشير
حدیث نمبر: 16369 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16369]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3322، م: 2106، سعيد بن يسار سمع من أبى طلحة أم لا؟ الأشبه أن بينهما زيد بن خالد الجهني
الحكم: حديث صحيح، خ: 3322، م: 2106، سعيد بن يسار سمع من أبى طلحة أم لا؟ الأشبه أن بينهما زيد بن خالد الجهني