سُرَيْجٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا طَيِّبَ النَّفْسِ، يُرَى فِي وَجْهِهِ الْبِشْرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصْبَحْتَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ، يُرَى فِي وَجْهِكَ الْبِشْرُ، قَالَ:" أَجَلْ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَاةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو صبح کے وقت آپ کا موڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آرہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ اس کے لئے دس نیکیاں لکھے گا دس گناہ معاف کر ے گا دس درجات بلند فرمائے گا اور اس پر بھی اسی طرح رحمت نازل فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16352]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبومعشر ضعيف، ولم يدرك إسحاق بن كعب
الحكم: إسناده ضعيف، أبومعشر ضعيف، ولم يدرك إسحاق بن كعب