بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث طَلقِ بنِ عَلِیّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 16283 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ بَدْرٍ، أَنَا أَشُكُّ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16283]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، عبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، عبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
حدیث نمبر: 16284 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16284]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
حدیث نمبر: 16285 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُلَازِمٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ، فَطَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے تہبند کو چھوڑ کر اپنے اوپر لپیٹ لیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے نماز کے بعد فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16285]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16286 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ؟، قَالَ:" إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ جَسَدِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16286]
حکم دارالسلام
حسن، أيوب بن عتبة ضعيف لكنه توبع
الحكم: حسن، أيوب بن عتبة ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 16287 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِيسَى بْنِ خُثَيْمٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبَاهُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، فَلَمَّا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ،" طَارَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ، فَصَلَّى فِيهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے تہبند کو چھوڑ کر اپنے اوپر لپیٹ لیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16287]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16288 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ مِنَ امْرَأَتِهِ حَاجَةً، فَلْيَأْتِهَا وَلَوْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی بیوی کی ضرورت محسوس ہو تو وہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے اگرچہ وہ تنور پر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16288]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة الضعف محمد بن جابر
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة الضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16289 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَكُونُ وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَالَ:" وَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہوتے۔ سیدنا طلق سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16289]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «الا يكون وتران فى ليلة» فهو حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر، وقد انفرد بزيادة «عن أبيه» فى الإسناد ، فجعله من حديث والد طلق بن علي، فهو خطأ ، وعبدالله بن بدر لا يروي عن طلق
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «الا يكون وتران فى ليلة» فهو حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر، وقد انفرد بزيادة «عن أبيه» فى الإسناد ، فجعله من حديث والد طلق بن علي، فهو خطأ ، وعبدالله بن بدر لا يروي عن طل
حدیث نمبر: 16290 مسند احمد
مُوسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ، فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اگر بادل چھائے ہوں تو تیس کا وعدہ پورا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16290]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16291 مسند احمد
مُوسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلَ فِي الْأُفُقِ، وَلَكِنَّهُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صبح صادق نہیں ہو تی جو افق میں لمبائی کی صورت پھیلتی ہے بلکہ وہ سرخی ہو تی ہے جو چوڑائی کی صورت میں پھیلتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16291]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 16292 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَسِسْتُ ذَكَرِي، أَوْ الرَّجُلُ يَمَسُّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ، عَلَيْهِ الْوُضُوءُ؟، قَالَ:" لَا، إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے میری موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16292]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 16293 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَدَّعَنَا أَمَرَنِي، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَحَثَا مِنْهَا، ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَوْكَأَهَا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهَا، وَانْضَحْ مَسْجِدَ قَوْمِكَ، وَأْمُرْهُمْ يَرْفَعُوا بِرُءُوسِهِمْ أَنْ رَفَعَهَا اللَّهُ" قُلْتُ: إِنَّ الْأَرْضَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ بَعِيدَةٌ وَإِنَّهَا تَيْبَسُ، قَالَ:" فَإِذَا يَبِسَتْ فَمُدَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واپسی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں آپ کے پاس پانی کا برتن لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے پانی پیا اور تین مرتبہ اسی پانی میں کلی کی پھر اس برتن کا منہ باندھ دیا اور فرمایا: اس برتن کو لے جاؤ اور اس کا پانی اپنی قوم کی مسجد میں چھڑک دینا اور انہیں حکم دینا کہ اپنا سربلند رکھیں اور اللہ نے انہیں رفعت عطا فرمائی ہے میں نے عرض کیا: کہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافی طویل فاصلہ ہے اس برتن کا پانی ہمارے علاقے تک پہنچتے پہنچتے خشک ہو جائے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب خشک ہو نے لگے تو اس میں مزید پانی ملا لینا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16293]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة ، محمد بن جابر ضعيف، وعبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، محمد بن جابر ضعيف، وعبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
حدیث نمبر: 16294 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چاند کو لوگوں کے لئے اوقات کا ذریعہ بتایا ہے لہذاجب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس کا عدد پورا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16294]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16295 مسند احمد
قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟، قَالَ:" هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16295]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16296 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ ، قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ ، طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَهُمَا، أَنَّ أَبَاهُ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ أَتَانَا فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ عِنْدَنَا حَتَّى أَمْسَى، فَصَلَّى بِنَا الْقِيَامَ فِي رَمَضَانَ، وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِ رَيْمَانَ، فَصَلَّى بِهِمْ حَتَّى بَقِيَ الْوَتْرُ، فَقَدَّمَ رَجُلًا فَأَوْتَرَ بِهِمْ، وَقَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مارہ رمضان میں ہمارے والد سیدنا طلق بن علی ہمارے پاس آئے رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہے انہوں نے ہمیں نماز تروایح پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے پھر وہ مسجد ریحان چلے گئے اور انہیں بھی نماز پڑھائی جب وتر بچ گئے تو انہوں نے ان ہی میں سے ایک آدمی کو آگے کر دیا اور اس نے انہیں وتر پڑھا دیئے پھر سیدنا طلق نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16296]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن