بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 15860 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ، فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا , فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ، وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معن بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے میرے والد اور دادا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پیغام نکاح پر خطبہ پڑھ کر میرا نکاح کر دیا میرے والد یزید نے کچھ دینار صدقہ کی نیت سے نکالے اور مسجد میں ایک آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیئے وہ آدمی میں ہی تھا میں نے وہ دینار لئے اور ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگا کہ کہ میں نے تمہیں یہ دینار نہیں دینا چاہے تھے میں یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یزید تمہیں اپنی نیت کا ثواب مل گیا اور معن جو تمہارے ہاتھ لگ گیا وہ تمہارا ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15860]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1422، مصعب بن المقدام و محمد بن سابق مختلف فيهما وقد توبعا
الحكم: حديث صحيح، خ: 1422، مصعب بن المقدام و محمد بن سابق مختلف فيهما وقد توبعا
حدیث نمبر: 15861 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ ، مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي"، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ، فَأَتَيْنَاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصَرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوًا مِنْ هَذَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا، وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللَّهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ، وَأَنْ فَعَلَ وَفَعَلَ , قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ، فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا، حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا، وَكَلَّمَنَا، وَعَلَّمَنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد میں سب لوگ جمع ہو جاؤ اور جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا چنانچہ سب سے پہلے ہم لوگ آئے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باوقار طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لائے اور آ کر رونق افروز ہو گئے اسی اثناء میں ہم میں سے ایک آدمی تک بندی کے ساتھ کلام کرتے ہوئے کہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ اللہ نے ہمیں سب سے پہلے حاضر ہو نے کی خصوصیت عطا فرمائی تھی اور فلاں شخص نے یہ حرکت کر دی پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راضی کرنے کے لئے کوشش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور پہلے والی نشست پر آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے اپنے سامنے کر لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں کچھ احکامات بتائے اور کچھ باتیں تعلیم فرمائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15861]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، سهيل بن ذرا مجهول
الحكم: بعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، سهيل بن ذرا مجهول
حدیث نمبر: 15862 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ، مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ، قَالَ:" أَصَبْتُ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ فِي أَرْضِ الرُّومِ، قَالَ: وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهَا يَقْسِمُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ" إِذًا لَأَعْطَيْتُكَ. قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ فَعَرَضَ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ , قُلْتُ: مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ کے دور خلافت میں سر زمین روم میں مجھے سرخ رنگ کا ایک مٹکا ملا جس میں دینار بھرے ہوئے تھے ہمارے سپہ سالار بنوسلیم میں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی تھے جن کا نام معن بن یزید تھا میں وہ مٹکا ان کے پاس لے کر گیا تاکہ وہ اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیں چنانچہ انہوں نے مجھے بھی اتنا ہی دیا جتنا ایک عام آدمی کو دیا تھا پھر فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور کرتے ہوئے دیکھا نہ ہوتا کہ خمس کے بعد انعام نہیں رہتا تو میں یہ سارا کچھ تمہیں دیدیتا پھر انہوں نے مجھے اپناحصہ دینے کی پیش کش کی لیکن میں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں آپ سے زیادہ اس کا حق دار نہیں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15863 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ، مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ . حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا , وَأَبِي , وَجَدِّي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ،" فَأَفْلَجَنِي، وَخَطَبَ عَلَيَّ، فَأَنْكَحَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معن بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر میں نے میرے والد اور دادانے بیعت کی میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنا مقدمہ رکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا اور میرے پیغام نکاح پر خطبہ پڑھ کر میرا نکاح کر دیا۔ سیدنا معن بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر میں نے میرے والد اور دادانے بیعت کی میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنا مقدمہ رکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا اور میرے پیغام نکاح پر خطبہ پڑھ کر میرا نکاح کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1422