يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ ، مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي"، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ، فَأَتَيْنَاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصَرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوًا مِنْ هَذَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا، وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللَّهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ، وَأَنْ فَعَلَ وَفَعَلَ , قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ، فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا، حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا، وَكَلَّمَنَا، وَعَلَّمَنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد میں سب لوگ جمع ہو جاؤ اور جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا چنانچہ سب سے پہلے ہم لوگ آئے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باوقار طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لائے اور آ کر رونق افروز ہو گئے اسی اثناء میں ہم میں سے ایک آدمی تک بندی کے ساتھ کلام کرتے ہوئے کہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ اللہ نے ہمیں سب سے پہلے حاضر ہو نے کی خصوصیت عطا فرمائی تھی اور فلاں شخص نے یہ حرکت کر دی پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راضی کرنے کے لئے کوشش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور پہلے والی نشست پر آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے اپنے سامنے کر لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں کچھ احکامات بتائے اور کچھ باتیں تعلیم فرمائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15861]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، سهيل بن ذرا مجهول
الحكم: بعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، سهيل بن ذرا مجهول