بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سفیَانَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الثَّقَفِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 15416 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: بَعْدَكَ، قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 38
الحكم: إسناده صحيح، م: 38
حدیث نمبر: 15417 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي أَمْرًا فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ , قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيَّ شَيْءٍ أَتَّقِي؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 38
الحكم: إسناده صحيح، م: 38
حدیث نمبر: 15418 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أخبرنا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ , ثُمَّ اسْتَقِمْ" قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْبَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا" , قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: بِطَرْفِ لِسَانِ نَفْسِه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 38، وهذا إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، م: 38، وهذا إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 15419 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخَبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ" قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ" هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن ماعز
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن ماعز