مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي أَمْرًا فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ , قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيَّ شَيْءٍ أَتَّقِي؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 38
الحكم: إسناده صحيح، م: 38