عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخَبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ" قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ" هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن ماعز
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن ماعز