بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث الحَسَنِ بنِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1718 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایسے کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں وتروں کی دعا قنوت میں پڑھتا ہوں، اور وہ یہ ہیں: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں مجھے بھی ہدایت عطاء فرما، اپنی بارگاہ سے عافیت ملنے والوں میں مجھے بھی عافیت عطاء فرما، جن لوگوں کی تو سرپرستی فرماتا ہے ان ہی میں میری بھی سرپرستی فرما، اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، کیونکہ تو فیصلہ کر سکتا ہے تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس کا تو دوست ہو جائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا، تو بڑا بابرکت ہے اے ہمارے رب! اور بڑا برتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1718]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1719 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هُبَيْرَةَ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ , خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَبْعَثُهُ بِالرَّايَةِ: جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ، لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہبیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہو گیا ہے کہ پہلے لوگ علم میں ان پر سبقت نہ لے جا سکے اور بعد والے ان کی گرد بھی نہ پا سکیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنا جھنڈا دے کر بھیجا کرتے تھے، جبرئیل علیہ السلام ان کی دائیں جانب اور میکائیل علیہ السلام ان کی بائیں جانب ہوتے تھے اور وہ فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1719]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيء الحفظ، لكنه توبع.
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيء الحفظ، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 1720 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ حُبْشِيٍّ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُبْشِيٍّ ، قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ قَتْلِ عَلِيٍّ رَضي الله عَنْهَما، فَقَالَ:" لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ، وَلَا أَدْرَكَهُ الْآخِرُونَ، إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبْعَثُهُ، وَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ، فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ، وَمَا تَرَكَ مِنْ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ عَطَائِهِ، كَانَ يَرْصُدُهَا لِخَادِمٍ لِأَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہبیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہو گیا ہے کہ پہلے لوگ علم میں ان پر سبقت نہ لے جاسکے اور بعد والے ان کی گرد بھی نہ پا سکیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنا جھنڈا دے کر بھیجا کرتے تھے، اور وہ فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آتے تھے، اور انہوں نے اپنے ترکے میں کوئی سونا چاندی نہیں چھوڑا، سوائے اپنے وظیفے کے سات سو درہم کے جو انہوں نے اپنے گھر کے خادم کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1720]
حکم دارالسلام
حسن، عمرو بن حبشي مقبول. راجع ما قبله.
الحكم: حسن، عمرو بن حبشي مقبول. راجع ما قبله.
حدیث نمبر: 1721 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ أَنْ يَقُولَ فِي الْوَتْرِ" فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث (1718) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1722 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک جنازہ گذرا، لوگ کھڑے ہو گئے لیکن سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے، اور فرمانے لگے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اس لئے کھڑے ہوتے تھے کہ اس یہودی کی بدبو سے - جس کا جنازہ گذر رہا تھا - تنگ آگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1722]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة ولانقطاعه، فإن محمد بن على لم يدرك الحسن بن علي.
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة ولانقطاعه، فإن محمد بن على لم يدرك الحسن بن علي.
حدیث نمبر: 1723 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِِيَّ، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا عَلَيْكَ لَوْ أَكَلَ هَذِهِ التَّمْرَةَ؟ قَالَ:" إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ وَكَانَ يَقُولُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھا لینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بےشبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں یہ دعا بھی سکھایا کرتے تھے کہ «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَرُبَّمَا قَالَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما، اور اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، جس کا تو دوست ہو جائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا، اور اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بےشبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں یہ دعا بھی سکھایا کرتے تھے کہ اے اللہ، جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی ان میں مجھے بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما اور اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، جس کا تو دوست ہوجائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اور اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1724 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ ، لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ ، أَنَّهُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَدْخَلَنِي غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ مِنْهَا تَمْرَةً، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْقِهَا فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربیعہ بن شیبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پھینک دو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1725 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِيَّ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِيَّ فَأَخَذَهَا بِلُعَابِي، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا؟ قَالَ:" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ" قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھا لینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے صدقہ کا مال حلال نہیں ہے۔ نیز میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پانچ نمازیں یاد رکھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1726 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ ، مُحَمَّدٌ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ , أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ:" نُبِّئْتُ أَنَّ جِنَازَةً مَرَّتْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ يُنْكِرْ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے، اس پر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے کوئی نکیر نہ فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1726]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الراوي الذى أبهمه محمد بن سيرين.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الراوي الذى أبهمه محمد بن سيرين.
حدیث نمبر: 1727 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، قَالَ: فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ قَالَ:" وَإِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ وَكَانَ يَقُولُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ"، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ هَذِهِ أَيْضًا:" تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ"، قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ هَذَا مِنْهُ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَخْرَجَهُ إِلَى الْمَهْدِيِّ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، فَلَمْ يَشُكَّ فِي:" تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ"، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: إِنَّكَ تَشُكُّ فِيهِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ شَكٌّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھا لینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بےشبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں یہ دعا بھی سکھایا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی ان میں مجھ بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی ان میں مجھے بھی شامل فرما، اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، اور جس کا تو دوست ہو جائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا، اور اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1728 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ :" مَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَجَلَسَ الْآخَرُ، فَقَالَ الَّذِي قَامَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ؟ قَالَ: بَلَى، وَقَعَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1728]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف. فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف. فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي.
حدیث نمبر: 1729 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ , وَابْنَ عَبَّاسٍ :" رَأَيَا جَنَازَةً، فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الْآخَرُ، فَقَالَ الَّذِي قَامَ: أَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الَّذِي قَعَدَ: بَلَى، وَقَعَدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1729]
حکم دارالسلام
حسن لغيره.
الحكم: حسن لغيره.