وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایسے کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں وتروں کی دعا قنوت میں پڑھتا ہوں، اور وہ یہ ہیں: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں مجھے بھی ہدایت عطاء فرما، اپنی بارگاہ سے عافیت ملنے والوں میں مجھے بھی عافیت عطاء فرما، جن لوگوں کی تو سرپرستی فرماتا ہے ان ہی میں میری بھی سرپرستی فرما، اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لئے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، کیونکہ تو فیصلہ کر سکتا ہے تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس کا تو دوست ہو جائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا، تو بڑا بابرکت ہے اے ہمارے رب! اور بڑا برتر ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1718]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.