أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبِي الْحَوْرَاءِ ، حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِيَّ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِيَّ فَأَخَذَهَا بِلُعَابِي، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا؟ قَالَ:" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ" قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھا لینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے صدقہ کا مال حلال نہیں ہے۔“ نیز میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پانچ نمازیں یاد رکھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.