بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد سَعِیدِ بنِ زَیدِ بنِ عَمرِو بنِ نفَیل رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 30
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 1625 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1625]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4478، م: 2049.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4478، م: 2049.
حدیث نمبر: 1626 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1626]
حدیث نمبر: 1627 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ السَّلْوَى، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1627]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا الحديث تفرد به عبدالوارث بن سعيد والد عبدالصمد عن عطاء وهو خطأ، أخطأ فيه عطاء إذ كان قد اختلط ، ورواية عبدالوارث عنه بعد اختلاطه.
الحكم: صحيح، وهذا الحديث تفرد به عبدالوارث بن سعيد والد عبدالصمد عن عطاء وهو خطأ، أخطأ فيه عطاء إذ كان قد اختلط ، ورواية عبدالوارث عنه بعد اختلاطه.
حدیث نمبر: 1628 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: هَذَا حَفِظْنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے، اور جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1629 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى ، رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ، وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ، يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ، ثَلَاثًا، أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ، لَا تُنْكِرُ، وَلَا تُغَيِّرُ، فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا، يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ، أَنَّهُ قَالَ:" أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ"، وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ، قَالَ: فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ، يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم، مَنْ التَّاسِعُ؟ قَالَ: نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ، وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَام.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے دائیں بائیں اہل کوفہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ آگئے، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور چارپائی کی پائنتی کے پاس انہیں بٹھا لیا، کچھ دیر کے بعد ایک کوفی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے آ کر کھڑا ہوا اور کسی کو گالیاں دینے لگا، انہوں نے پوچھا: مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو، انہوں نے تین مرتبہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور فرمایا: آپ کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ لوگوں کو منع نہیں کر رہے اور نہ اپنی مجلس کو تبدیل کر رہے ہیں؟ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے، اور میں ان سے کوئی جھوٹی بات روایت نہیں کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ایک نواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہتا تو بتا سکتا ہوں۔ اہل مسجد نے بآواز بلند انہیں قسم دے کر پوچھا کہ اے صحابی رسول! وہ نواں آدمی کون ہے؟ فرمایا: تم مجھے اللہ کی قسم دے رہے ہو، اللہ کا نام بہت بڑا ہے، وہ نواں آدمی میں ہی ہوں اور دسویں خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ اس کے بعد وہ دائیں طرف چلے گئے اور فرمایا کہ واللہ! وہ ایک غزوہ جس میں کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا اور اس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا، وہ تمہارے ہر عمل سے افضل ہے اگرچہ تمہیں عمر نوح ہی مل جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1630 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حُصَيْنٍ ، وَمَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَكِيعٌ ، مَنْصُورٌ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، حُصَيْنٌ ، ابْنِ ظَالِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، وَمَنْصُورٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً، قَالَ مَنْصُورٌ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: حُصَيْنٌ , عَنِ ابْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" اسْكُنْ حِرَاءُ، فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"، قَالَ: وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبل حراء سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے حراء! ٹھہر جا کہ تجھ پر کسی نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔ اس وقت جبل حراء پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن زید رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1630]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وقد اختلف على هلال بن يساف فى هذا الحديث، والظاهر أنه سمعه من عبدالله بن ظالم عن سعيد بن زيد.
الحكم: صحيح لغيره، وقد اختلف على هلال بن يساف فى هذا الحديث، والظاهر أنه سمعه من عبدالله بن ظالم عن سعيد بن زيد.
حدیث نمبر: 1631 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: خَطَبَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ"، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الْعَاشِرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جس پر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت میں ہوں گے، ابوبکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک اور ایک دسواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہوں تو بتا سکتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1631]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات.
حدیث نمبر: 1632 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 4478، م: 2049.
الحكم: إسناده صحيح. خ: 4478، م: 2049.
حدیث نمبر: 1633 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ"، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے، اور جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
حدیث نمبر: 1634 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَمْأَةٌ، فَقَالَ:" تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ هَذَا مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو دست مبارک میں کھنبی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو یہ کیا چیز ہے؟ یہ کھنبی ہے کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4478، م 2049 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4478، م 2049 .
حدیث نمبر: 1635 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھنبی بھی «مَنّ» سے تعلق رکھتی ہے (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا)، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1635]
حدیث نمبر: 1636 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ شُعْبَةُ لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ، لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1636]
حدیث نمبر: 1637 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ , أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، خَطَبَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" رَسُولُ اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ , وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ"، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُكُمْ بِالْعَاشِرِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَفْسَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جس پر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت میں ہوں گے، ابوبکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک جنت میں ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ دسویں آدمی کا نام اگر میں بتانا چاہوں تو بتا سکتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1637]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1638 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: خَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ، فَخَرَجَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا يَسُبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّا كُنَّا عَلَى حِرَاءٍ , أَوْ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اثْبُتْ حِرَاءُ أَوْ أُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"، فَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشَرَةَ، فَسَمَّى أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، وَسَعْدًا، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَمَّى نَفْسَهُ سَعِيدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی، اس پر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور فرمایا: تمہیں اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جبل حراء یا احد پر تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبل حراء سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے حراء! ٹھہر جا، کہ تجھ پر کسی نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس آدمیوں کے نام لئے جن میں سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن زید رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1638]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 1639 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ سَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ"، قَالَ مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ" وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن زمین کا وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
حدیث نمبر: 1640 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، سَعِيدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ مَرْوَانَ , قَالَ: اذْهَبُوا، فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وأَرْوَى، فَقَالَ سَعِيدٌ أَتُرَوْنِي أَخَذْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا؟ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، وَمَنْ تَوَلَّى مَوْلَى قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَمَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ، فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ جا کر ان دونوں یعنی سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور راوی کے درمیان صلح کرا دو، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اس عورت کا کچھ حق مارا ہوگا؟ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق کسی زمین پر ایک بالشت بھر قبضہ کرتا ہے، اس کے گلے میں زمین کا وہ ٹکڑا ساتوں زمینوں سے لے کر طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان سے موالات کی نسبت اختیار کرتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہے، اور جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لیتا ہے اللہ اس میں کبھی برکت نہیں دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1640]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 3198، م 1610 .
الحكم: إسناده قوي، خ: 3198، م 1610 .
حدیث نمبر: 1641 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن وہ حصہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2452، م: 1610.
حدیث نمبر: 1642 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: أَتَتْنِي أَرْوَى بِنْتُ أُوَيْسٍ، فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَدْ انْتَقَصَ مِنْ أَرْضِي إِلَى أَرْضِهِ، مَا لَيْسَ لَهُ، وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْتُوهُ فَتُكَلِّمُوهُ، قَال: فَرَكِبْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ، فَلَمَّا رَآنَا، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي جَاءَ بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَيْسَ لَهُ، طُوِّقَهُ إِلَى السَّابِعَةِ مِنَ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میرے پاس اروی بنت اویس نامی خاتون قریش کی ایک جماعت کے ساتھ آئی، جن میں عبدالرحمن بن عمرو بن سہیل بھی تھے، اور کہنے لگی کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میری زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں شامل کر لیا ہے حالانکہ وہ ان کا نہیں ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ ان کے پاس جا کر ان سے اس سلسلے میں بات چیت کریں۔ ہم لوگ اپنی سواری پر سوار ہو کر ان کی طرف روانہ ہوئے، اس وقت وہ وادی عقیق میں اپنی زمینوں میں تھے، انہوں نے جب ہمیں دیکھا تو فرمایا: میں سمجھ گیا کہ تم لوگ کیوں آئے ہو؟ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ جو شخص زمین کا کوئی حصہ اپنے قبضے میں کر لے حالانکہ وہ اس کا مالک نہ ہو تو وہ اس کے گلے میں ساتوں زمینوں تک قیامت کے دن طوق بنا کر ڈالا جائے گا، اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1642]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2452، م: 1610.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2452، م: 1610.
حدیث نمبر: 1643 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن وہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بناکر ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2452، م: 1610. بقية بن الوليد صرح بالتحديث، وهو متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2452، م: 1610. بقية بن الوليد صرح بالتحديث، وهو متابع.
حدیث نمبر: 1644 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حُصَيْنٌ أَخْبَرَنَا , عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ، اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ: فَغَضِبَ، فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَتَبِعْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ، الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ"، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَان، وَعَلِي، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْف، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَنْ الْعَاشِرُ؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ سے روانہ ہوئے تو وہاں کا گورنر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بنا دیا، (کچھ لوگوں نے ان سے تقریر کرنے کی اجازت مانگی) انہوں نے اجازت دے دی، وہ لوگ کھڑے ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے لگے، میں سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا، وہ غصے میں آ کر وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور فرمایا: آپ کی موجودگی میں ایک جنتی کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ لوگوں کو منع نہیں کر رہے، میں اس بات کا گواہ ہوں کہ نو آدمی جنت میں ہوں گے، اور اگر دسویں کے متعلق گواہی دوں تو گنہگار نہیں ہوں گا، میں نے ان سے اس کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے حراء! ٹھہر جا کہ تجھ پر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی نہیں ہے۔ میں نے ان کے نام پوچھے تو انہوں نے فرمایا: خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین، پھر خاموش ہوگئے، میں نے دسویں آدمی کا پوچھا تو فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1644]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.