بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد سَعِیدِ بنِ زَیدِ بنِ عَمرِو بنِ نفَیل رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 30
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 1645 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ التَّيْمِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: هُوَ فِي التِّسْعَةِ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الْعَاشِرَ سَمَّيْتُهُ، قَالَ: اهْتَزَّ حِرَاءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ"، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِي ٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَة، وَالزُّبَيْر، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدٌ، وَأَنَا" , يَعْنِي: سَعِيدًا نَفْسَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل جنت میں سے ہیں، راوی نے پوچھا وہ کیسے؟ تو فرمایا کہ وہ نو افراد میں شال ہیں اور میں دسویں آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں، ایک مرتبہ حراء پہاڑ لرزنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے حراء! ٹھہر جا کہ تجھ پر نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔ خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین اور میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1645]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 1646 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، يُونُسُ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَوْ أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک بالشت بھر زمین پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، قیامت کے دن وہ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1646]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 2452، م: 1610. وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، خ: 2452، م: 1610. وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 1647 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أُرَاهُ، قَالَ:" قَدْ يَذْهَبُ فِيهَا النَّاسُ أَسْرَعَ ذَهَابٍ"، قَالَ: فَقِيلَ: أَكُلُّهُمْ هَالِكٌ أَمْ بَعْضُهُمْ، قَالَ:" حَسْبُهُمْ، أَوْ بِحَسْبِهِمْ الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان فتنوں کا ذکر فرمایا جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے، اور لوگ اس میں بڑی تیزی سے دنیا سے جانے لگیں گے، کسی نے پوچھا کہ کیا یہ سب ہلاک ہوں گے یا بعض؟ فرمایا: قتل کے اعتبار سے ان کا معاملہ ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1647]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1648 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، قَالَ: فَمَا رؤيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَكَلَ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا قَدْ رَأَيْتَ وَبَلَغَكَ، وَلَوْ أَدْرَكَكَ لَآمَنَ بِكَ وَاتَّبَعَكَ فَاسْتَغْفِرْ لَهُ، قَالَ:" نَعَمْ، فَأَسْتَغْفِرُ لَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ - جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے اور ان کے ساتھ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے - زید بن عمرو بن نفیل کا ان دونوں کے پاس سے گذر ہوا، ان دونوں نے زید کو کھانے کی دعوت دی کیونکہ وہ اس وقت دسترخوان پر بیٹھے ہوئے تھے، زید کہنے لگے کہ بھتیجے! بتوں کے سامنے لے جا کر ذبح کئے جانے والے جانوروں کا گوشت میں نہیں کھاتا (یہ قبل از بعثت کا واقعہ ہے)، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی اس قسم کا کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد صاحب کو آپ نے خود بھی دیکھا ہے اور آپ کو ان کے حوالے سے معلوم بھی ہے، اگر وہ آپ کا زمانہ نبوت پا لیتے تو آپ پر ایمان لا کر آپ کی پیروی ضرور کرتے، آپ ان کے لئے استغفار کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! میں ان کے لئے استغفار کروں گا کیونکہ قیامت کے دن انہیں تنہا ایک امت کے برابر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1648]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف، المسعودي قد اختلط ويزيد روى عنه بعد الاختلاط ونفيل بن هشام وكذا أبوه لم يوثقهما غير ابن حبان.
الحكم: إسناد ضعيف، المسعودي قد اختلط ويزيد روى عنه بعد الاختلاط ونفيل بن هشام وكذا أبوه لم يوثقهما غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 1649 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا مَرْوَانُ: انْطَلِقُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ، فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ: أَتُرَوْنَ أَنِّي قَدْ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا , أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ , وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ , وَمَنْ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينِهِ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ جا کر ان دونوں یعنی سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور راوی کے درمیان صلح کرا دو، ہم سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اس عورت کا کچھ حق مارا ہوگا؟ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق کسی زمین پر ایک بالشت بھر قبضہ کرتا ہے، اس کے گلے میں زمین کا وہ ٹکڑا ساتوں زمینوں سے لے کر طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان سے موالات کی نسبت اختیار کرتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہے، اور جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لیتا ہے، اللہ اس میں کبھی برکت نہیں دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1649]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 2452، م: 1610 .
الحكم: إسناده قوي، خ: 2452، م: 1610 .
حدیث نمبر: 1650 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقَاسَمْتُ أَخِي، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يُبَارَكُ فِي ثَمَنِ أَرْضٍ وَلَا دَارٍ لَا يُجْعَلُ فِي أَرْضٍ وَلَا دَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مدینہ منورہ حاضری کے موقع پر اپنے بھائی سے حصہ تقسیم کروا لیا، اس پر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: اس زمین یا مکان کی قیمت میں برکت نہیں ہوتی جو زمین یا مکان ہی میں نہ لگا دی جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1650]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قيس بن الربيع ضعيف. وفي الباب عن حذيفة مرفوعاً وموقوفاً، والموقوف أصح.
الحكم: إسناده ضعيف، قيس بن الربيع ضعيف. وفي الباب عن حذيفة مرفوعاً وموقوفاً، والموقوف أصح.
حدیث نمبر: 1651 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ كَانَ يَقُولُ: يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ , فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ , قَالَ:" مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ قَطَعَهَا، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت لقمان علیہ السلام کا یہ قول معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹے! علم اس لئے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو اور جہلاء اور بیوقوفوں سے جھگڑتے پھرو، اور محفلوں میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگو۔ پھر انہوں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑا سود یہ ہے کہ ناحق کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی کی جائے، رحم (قرابت داری) رحمٰن کی شاخ ہے، جو شخص قرابت داری ختم کرے گا، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1651]
حکم دارالسلام
قول لقمان بلاغ، فهو منقطع، وأما القسم المرفوع، فإسناده صحيح.
الحكم: قول لقمان بلاغ، فهو منقطع، وأما القسم المرفوع، فإسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1652 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے، جو شخص اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے، جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے، اور جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1652]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 1653 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1653]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 1654 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مَنْ ، عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمْ الْعُشُورَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ عرب! اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ اس نے تم سے ٹیکس اٹھا دیئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1654]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف. إبراهيم بن المهاجر لين الحديث والراوي عن عمرو بن حريث لا يعرف.
الحكم: إسناده ضعيف. إبراهيم بن المهاجر لين الحديث والراوي عن عمرو بن حريث لا يعرف.