بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1638
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1638
حدیث نمبر: 1638 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: خَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ، فَخَرَجَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا يَسُبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّا كُنَّا عَلَى حِرَاءٍ , أَوْ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اثْبُتْ حِرَاءُ أَوْ أُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"، فَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشَرَةَ، فَسَمَّى أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، وَسَعْدًا، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَمَّى نَفْسَهُ سَعِيدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی، اس پر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور فرمایا: تمہیں اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جبل حراء یا احد پر تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبل حراء سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے حراء! ٹھہر جا، کہ تجھ پر کسی نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس آدمیوں کے نام لئے جن میں سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن زید رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1638]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
← پچھلی حدیث (1637) باب پر واپس اگلی حدیث (1639) →