بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
-بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 45
صفحہ 2 از 3
حدیث نمبر: 27533 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ , كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اسی شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کردے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27533]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة الطائي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة الطائي
حدیث نمبر: 27534 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي السَّفَرِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , قَالَ: كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ الْقُرَشِيُّ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي , قَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا , إِنَّا سَنُرْضِيهِ , قَالَ: فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ مُعَاوِيَةُ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ , وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ , فَيَتَصَدَّقُ بِهِ , إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" , قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , وَوَعَاهُ قَلْبِي , يَعْنِي: فَعَفَا عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سفر کہتے ہیں کہ قریش کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کا دانت توڑ ڈالا اس نے حضرت معاویہ سے قصاص کی درخواست کی وہ قریشی کہنے لگا کہ اس نے میرا دانت توڑا تھا حضرت معاویہ نے فرمایا ہرگز نہیں ہم اسے راضی کریں گے جب اس انصار نے بڑے اصرار سے اپنی بات دہرائی تو حضرت معاویہ نے فرمایا تم اپنے ساتھی سے اپنا بدلہ لے لو، اس مجلس میں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صدقہ کی نیت کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس انصار نے پوچھا کہ کیا آپ نے خود نبی سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میرے کانوں نے اس حدیث کو سنا ہے اور میرے دل نے اسے مخفوظ کیا ہے، چنانچہ اس نے اس قریشی کو معاف کردیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27534]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو السفر لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو السفر لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27535 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ , فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَاقْرَأْ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , قُلْتُ: " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَضَحِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا اور وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، غالباً وہ اس پر ہنسے بھی تھے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
حدیث نمبر: 27536 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ , كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27536]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
الحكم: حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27537 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: " اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفْطَرَ , فَأُتِيَ بِمَاءٍ , فَتَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں کے وضو کرلیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27537]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد أخطأ فيه معمر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد أخطأ فيه معمر
حدیث نمبر: 27538 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ , فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , وَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ: فَجَاءَ , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2 , قَالَ عَلْقَمَةُ: " وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي , ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ , وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! صَاحِبُ الْوِسَادِ: ابْنُ مَسْعُودٍ , وَصَاحِبُ السِّرِّ: حُذَيْفَةُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ: عَمَّارٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام دمشق کی جامع میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے مخفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27539 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةُ ، إِبْرَاهِيمَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّامِ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27540 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 809
الحكم: إسناده صحيح، م: 809
حدیث نمبر: 27541 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ: حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 809
الحكم: إسناده صحيح، م: 809
حدیث نمبر: 27542 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ ، مَعْدَانَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: كَانَ قَتَادَةُ يَقُصُّ بِهِ عَلَيْنَا , قَالَ: حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ , قَالَ: حدثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 809
الحكم: إسناده صحيح، م: 809
حدیث نمبر: 27543 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ , رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔ علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27543]
حکم دارالسلام
حسن لغيره لجهالة مرزوق أبى بكر
الحكم: حسن لغيره لجهالة مرزوق أبى بكر
حدیث نمبر: 27544 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمُغِيرَةِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ , فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , وَقُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
حدیث نمبر: 27545 مسند احمد
أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، لَيْثٌ ، مُعَاوِيَةَ ، أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا عِيسَى , إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً , إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ , حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا , وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ , احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ , قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " بقول راوی میں نے انہیں اس سے قبل یا بعد میں نبی کی کنیت ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا " کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں، انہیں اگر کوئی خوشی نصیب ہوگی تو وہ حمد و شکر بجا لائیں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آئے گی تو وہ اس پر صبر کریں گے اور ثواب کی نیت کریں گے اور کوئی حلم و علم نہ ہوگا، انہوں نے عرض کیا پروردگار! یہ کیسے ہوگا جبکہ ان کے پاس کوئی حلم و علم نہ ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں انہیں اپنا حلم و علم عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27545]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حلبس يزيد بن ميسرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حلبس يزيد بن ميسرة
حدیث نمبر: 27546 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ ، كَثِيرُ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ ، يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ , حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ , فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ , أَوْ مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ , فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ , ثُمَّ قَامَ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , أَوْ أَرْبَعًا شَكَّ سَهْلٌ , يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخُشُوعَ , ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , غَفَرَ لَهُ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهِمَ فِي اسْمِ الشَّيْخِ , فَقَالَ: سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ , وَإِنَّمَا هُوَ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا بھتیجے! کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا محض آپ کے اور میرے والد عبداللہ بن سلام کی دوستی کی وجہ سے، انہوں نے فرمایا زندگی کے اس لمحے میں جھوٹ بولنا بہت بری بات ہوگی، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے پھر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو اللہ اسے ضرور بخش دے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27546]
حکم دارالسلام
إسناده حسن على وهم فى تسمية أحذ رواته ، فقد وهم أحمد بن عبدالملك ، فسمي صدقة بن أبى سهل: سهل ابن أبى صدقة، كما نبه عليه الإمام عبدالله بن الإمام أحمد عقب هذا الحديث
الحكم: إسناده حسن على وهم فى تسمية أحذ رواته ، فقد وهم أحمد بن عبدالملك ، فسمي صدقة بن أبى سهل: سهل ابن أبى صدقة، كما نبه عليه الإمام عبدالله بن الإمام أحمد عقب هذا الحديث
حدیث نمبر: 27547 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حدثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ إِذْ حُضِرَ , قَالَ: أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ , فَأُدْخِلُوا عَلَيْهِ , فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ" , وَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ , وَالشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ عُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَأَتَوْا أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي , وَمَا كَانَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل کے حوالے سے مروی ہے کہ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو فرمایا لوگوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، لوگ آئے تو فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، میں تمہیں یہ بات اپنی موت کے وقت بتارہا ہوں اور اس کے گواہ عویمر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا میرے بھائی نے سچ کہا اور انہوں نے یہ حدیث تم سے اپنی موت کے وقت ہی بیان کرنا تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27547]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو صالح لم يسمع من معاذ بن جبل، ولا من أبى الدرداء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو صالح لم يسمع من معاذ بن جبل، ولا من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27548 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُصِمُّ وَيُعْمِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27548]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر
الحكم: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر
حدیث نمبر: 27549 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةُ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ , يُحَدِّثُ , قالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ وَفِّقْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ , فَإِذَا هُوَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3 , فَقُلْتُ: كَانَ يَقْرَؤُهَا: " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , فَمَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي , ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَالسِّوَاكِ؟ يَعْنِي: عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ مَسْعُودٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مِنَ الشَّيْطَان؟ يَعْنِي: عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ وَلَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ؟ يَعْنِي: حُذَيْفَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام میں دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
حدیث نمبر: 27550 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُولُ: ابْنَ آدَمَ , لَا تَعْجِزْ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ , أَكْفِكَ آخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعیم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! تو دن کے پہلے چار حصے میں چار رکعتیں پڑھنے سے اپنے آپ کو عاجز ظاہر نہ کرو، میں دن کے آخری حصے تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27550]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، شريح بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، شريح بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27551 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ:" أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَنْ وَتْرٍ , وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ہر تین مہینے روزے رکھنے کی، وتر پڑھ کر سونے کی اور سفر وحضر میں چاشت کے نوافل پڑھنے کی وصیت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، دون قوله: "فى الحضر والسفر"، م: 722، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى إدريس السكوني، ولجهالة أبى إدريس
الحكم: حديث صحيح، دون قوله: "فى الحضر والسفر"، م: 722، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى إدريس السكوني، ولجهالة أبى إدريس
حدیث نمبر: 27552 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ , قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ , فَاحْفَظْ ذَلِكَ الْبَابَ , أَوْ دَعْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27552]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن